گلزار بخاری ۔۔۔ رباعیات

اللہ کے ہی اسم سے آغاز کریں
اکرام و عنایات کا در باز کریں
وہ ذات ازل سے ہے جو رحمان و کریم
اس کے ہی کرم سے سُخن اعجاز کریں

حق ہم سرائی کا ادا کیسے ہو
عاجز کو یہ توفیق عطا کیسے ہو
ہم وصف محمدؐ کے نہیں گن سکتے
محمود کی توصیف و ثنا کیسے ہو

ٹھہرے ہیں ولّی قبیلۂ ارباب سُخن
کہنا ہے وہی محرم آداب سخن
دَر تازہ مضامیں کا نہیں بند کبھی
تا روزِ قیامت ہے کُھلا باب سُخن

کہہ دو دل و جان سے کہ ہے اللہ احد
ہرگز نہیں محتاج کسی کا وہ صمد
آ دیکھیں ذرا اس کی احدیت کا ثبوت
والد ہے کسی کا نہ ولد ہے اللہ
اخلاص کسے بزم جہاں سے ملتا
پیغامِ شرف کس کی زباں سے ملتا
اے فاطمہ ہوتی نہ اگر آل تری
مفہوم شرافت کو کہاں سے ملتا

ترکیب نمائش ہے غضب یاروں کی
گم ہو گئی بینائی خریداروں کی
ہر چند وہ تاجر ہیں خذف ریزوں
قیمت انھیں ملتی ہے گہر پاروں کی

اعلان سہی تاب و تواں ہونے کا
منزل کی طرف تیرے رواں ہونے کا
تجھ پر ہے یہی فرض کرے کسبِ کمال
نسخہ ہے یہ مقبولِ جہاں ہونے کا

Related posts

Leave a Comment